Wednesday, 20 September 2017

این اے 120 کی کامیابی وناکامی کی صورتحال۔۔۔۔از۔۔۔ محمد طاھر عزیز۔۔۔۔

رنگ لائے گی جو محشر میں تو اڑ جائے گا رنگ
یوں نہ کہیے سرخی خون قتیلاں کچھ نہیں ۔۔ 
این اے 120 کی کامیابی وناکامی کی صورتحال۔۔۔۔ 
از۔۔۔ محمد طاھر عزیز۔۔۔۔ 
قارئین ! سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کی نا اہلی کے بعد خالی ہونے والی سیٹ پر الیکشن کا اعلان ہوا تو کثیر تعداد میں امیدواران سامنے آئے جن کی تعداد 44 تک بتائی جا رہی ہے ۔۔ 
ایسے میں ہر جماعت اپنے تئیں کوشش میں تھی کہ اس کا امیدوارکامیابی سے ہمکنار ہو۔ ایسے میں بلند بانگ دعوے اور الزام تراشی کا سلسلہ بھی زور شور سے جاری رہا،اندریں حالات تحریک انصاف پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ ن میں تو خوب ٹھنی اور بلاشبہ یہ حلقے میں مضبوط ترین امیدوار رکھنے والی جماعتیں بھی تھیں مگر اس میدان میں کئی ایک جماعتیں نومولود بھی تھیں ان میں سے دو اامیدوار تو پہلی بار سامنے آئے ان میں سے ایک تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ اور ملی مسلم لیگ جو جماعۃ الدعوۃ پاکستان کا ایک نیا چہرہ تھا ۔۔ 
ان حالات میں ان امیدواران کا سامنے آنا ایک عجیب بات بھی تھی اور مشکل ترین حالات میں اپنے آپ کو میدان میں اتارنے کا معاملہ بھی ۔۔۔ 
خیر جب نتائج سامنے آئے تو یہ نئی جماعتیں بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر رہیں ، مذکورہ امیدواران میں شاید سیاسی قدکاٹھ میں کوئ خاص فرق نہ ہو تا ہم جماعتیں الگ الگ مسلک اور الگ الگ پہچان کی حامل تھیں ۔۔۔ 
ایسے میں تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے امیدوار تیسرے نمبر پر رہے اور یہ انکی بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ جماعۃ الدعوہ ایک منظم جماعت ہے عرصہ دراز سے وہ میدان عمل میں اور کبھی یہ حکومت کا دایاں بازو رہی اور کبھی ان کی آنکھ کا تارا اور کبھی نشانے پر مگر تجربہ انہیں خوب رہا ۔۔۔ میڈیا کی حمایت بھی دوسری جماعتوں کی طرح ان کو حاصل رہی۔۔ 
رہا تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ تو نہ تجربہ نہ عمر نہ کارکنان اور نہ کسی قسم کی میڈیا کی حمایت بلکہ اس کے جذباتی بلکہ جنونی مزاج ناتجربہ کارکارکنان کی سوشل میڈیا کی کوشش وکاوش اس کے بارے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا ان کا ۔۔ 
خیر تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے امیدوار کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور یہ بات ان کیلئے خوش آئند ہے کیونکہ انہیں جس طرح میڈیا نے اور الیکشن کمیشن نے نظر انداز کیا بلکہ میڈیا تو کل تک جب کہ وہ اس حلقہ میں تیسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی مگر اس کے امیدوار کیلئے آزاد امیدوار کا نام استعمال کیا گیا جبکہ یہ سراسر زیادتی ہے اور یہاں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا میڈیا کس قدر غیر جانبدار ہے ۔۔ 
ایسے میں تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے قائدین کیلئے مزید سوچ بچار کی ضرورت ہے کہ انہوں نے 2018 کے الیکشن کی تیاری کس طرح کرنی ہے اور ایسے میں اتحاد اہلسنت کی فضا خراب نہ کی جائے بلکہ ہموار کی جائے اور ان حالات میں تحریک لبیک کے دوسرے دھڑے کا کردار بھی نہایت مستحسن رہا کہ انہوں نے تمام تر غلط فہمیوں اور اختلافات کے باوجود کسی بھی قسم کے رابطے کے بغیر صرف یارسول اللہ ﷺ کے اسم مقدس پہ متحد ہوکر اپنے تمام تر کارکنان کو اسی ایک امیدوار کی حمایت کا حکم دیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہلسنت اس بات پر متحد ہو سکتے ہیں اگر یہ چند ایک خوشامدی چاپلوس اور بد فطرت لوگوں کے چنگل سے دونوں قائدین اپنے دامن کو داغدار ہونے سے محفوظ رکھ سکیں ۔۔ اور قائد تحریک علامہ شیخ الحدیث خادم حسین رضوی صاحب اپنی زبان کی سختی کو صرف اپنے اہداف تک محدود رکھیں اور وہی زبان ان کے کارکنان قطعی استعمال نہ کریں تو پھر تحریک ایک اچھا نام کما سکتی ہے اور اسے کے امیدوار اگر کامیاب نہ بھی ہوئے تو دوسرے امیدواروں کو ٹف ٹائم ضرور دیں گے اور ابھی پنجاب کے وزیر قانون اپنی پریس کانفرنس میں کہہ رہے تھے کہ یہ ووٹ واقعی مسلم لیگ ن کا تھا جو تحریک نے لیا تو مطلب یہ واقی کامیاب ہیں کہ ن لیگ کو تو ہلا دیا ۔۔ 
اس طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ پاکستان کےتمام تر حلقوں میں اپنے امیدوار میدان عمل میں لائیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے چاہے چند حلقوں کا انتخاب ہو مگر پوری تجربہ کاری اور مضبوط ترین منصوبہ بندی کے ساتھ ۔۔ 
اور پر لطف بات یہ کہ کچھ لوگ تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے کارکنان پر طنزیہ جملے کس رہے ہیں ان سے گزارش ہے کہ یہ لوگ تو میدان عمل میں تھے اور مزاحمت کے باوجود یہ قائم رہے نہ میڈیا کی آشیرباد حاصل تھی نہ گورنمنٹ کی حمایت نہ سیاسی قد کاٹھ پھر بھی ناکوں چنے تو چبوائے نا جیتنا ہارنا الگ بات ۔۔ مگر جناب پرائی شادی میں عبد اللہ دیوانہ والا معاملہ تو آپکا ہے چلیں یہ اپنے مشن میں تو کامیا ب مگر آپ کہاں کھڑے ہیں ؟ 
آنٹی کلثوم نےکسی کو گھاس ڈالا تو بتائیے گا ، چلیں ان کے ساتھ دوستی نہ سہی نون لیگ کے ساتھ دشمنی تو دینی اور مذھبی بنیادوں پہ ہے یا نہیں تو جناب یہاں نہیں تو میدان محشر میں ؟
رنگ لائے گی جو محشر میں تو اڑ جائے گا رنگ 
یوں نہ کہیے کہ سرخی خون قتیلاں کچھ نہیں ۔۔

0 comments:

Post a Comment